مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی نیا نے کہا کہ امریکہ نے 2018 میں جوہری معاہدے سے دستبرداری سے لے کر حالیہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی تک بارہا اپنے وعدے توڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز میں ایک ایسا بحری راستہ مسلط کرنا چاہتا ہے جس کی کسی معاہدے میں اجازت نہیں، حالانکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مطابق اس آبی گزرگاہ میں آمد و رفت کے انتظامات ایران کی ذمہ داری ہیں۔
بریگیڈیئر جنرل اکرمی نیا نے کہا کہ اسلامی جمہوری ایران کی مسلح افواج آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی سلامتی کو یقینی بنانے اور معاہدے میں طے شدہ انتظامات پر عمل درآمد کی پابند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران پوری قوت کے ساتھ اپنے حقوق کا دفاع کرے گا اور ایرانی عوام کے مفادات کے تحفظ میں کوئی کوتاہی نہیں برتے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی فوج نے کبھی بھی امریکہ پر اعتماد نہیں کیا اور جنگ بندی کے عرصے کو اپنی عسکری تیاریوں اور جنگی صلاحیت میں اضافے کے لیے استعمال کیا۔ فوج نے اپنی اہداف کی فہرست کو ازسرنو مرتب کر لیا ہے اور ہر ممکن صورتحال کا جواب دینے کے لیے مکمل آمادہ ہے۔
انہوں نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ خطے میں اپنی مداخلتیں بند کرے اور ساتھ ساتھ خبردار کیا کہ امریکہ کو اپنے علاقائی اتحادیوں کو مزید عدم استحکام سے دوچار نہیں کرنا چاہیے۔ جب بھی امریکہ نے ایران کے خلاف اقدام کیا، اسے جواب ملا ہے اور گزشتہ شب بھی ایسا ہی ہوا۔
انہوں نے شہید رہبر انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تشییع جنازہ میں عوام کی بڑی تعداد میں شرکت کو قومی اتحاد اور طاقت کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام نے اپنے غم کو عزم میں بدل دیا ہے اور شہید رہبر کے خون کا انتقام لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ کا تبصرہ